جرمنی کی مسجد ہو یا پاکستان کی، ایک چیز تقریباً ہر جگہ مشترک نظر آتی ہے — مسجد میں کھیلتے ہوئے بچے۔ نماز سے پہلے یا بعد میں جب بڑے عبادت میں مصروف ہوتے ہیں تو کسی کونے میں بچوں کی ہنسی، دوڑ اور معصوم شرارتیں ماحول کو زندہ بنا دیتی ہیں۔
اکثر لوگ اس شور سے پریشان ہو کر فوراً بچوں کو ڈانٹ دیتے ہیں، لیکن شاید ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ یہی بچے مسجد کو اپنا سمجھ کر یہاں آتے ہیں۔ بچے معصوم ہوتے ہیں اور ڈانٹ کا اثر ان کے دل پر بہت جلد بیٹھ جاتا ہے۔
اگر ہم سختی کریں گے تو ممکن ہے وہ دوبارہ مسجد آنے سے گھبرائیں اور آہستہ آہستہ مسجد سے دور ہو جائیں۔ ہماری ذمہ داری یہ نہیں کہ ہم انہیں خوف دیں بلکہ محبت سے سمجھائیں کہ مسجد کا ادب کیا ہوتا ہے۔ نرمی اور پیار سے دی گئی نصیحت بچے کے دل میں جگہ بناتی ہے، جبکہ سختی صرف فاصلے پیدا کرتی ہے۔
مسجد صرف عبادت کی جگہ نہیں بلکہ نئی نسل کی تربیت کا مرکز بھی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ہم بچوں کو ڈانٹنے کے بجائے شفقت سے رہنمائی کریں تاکہ آج کھیلنے والے یہی بچے کل مسجد کی صفوں کی خوبصورتی بن سکیں

Add comment