کچھ عرصہ پہلے ایک صاحب نے اپنا ایک دلچسپ واقعہ سنایا۔ سخت گرمیوں کے دن تھے، وہ بال کٹوانے کے لیے دکان پر گئے۔ عام طور پر وہاں اے سی چلتا تھا، اس لیے باہر کی تازہ ہوا کا کوئی خاص انتظام نہ تھا۔ مگر اس دن لائٹ چلی گئی اور کسی وجہ سے جنریٹر بھی نہ چل سکا۔ بال کٹوانے کے دوران ہمیشہ کی طرح ان کی قمیض پر اضافی کپڑا ڈال دیا گیا تاکہ کپڑے خراب نہ ہوں۔
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بال کٹواتے ہوئے گرمی کے باعث انہیں شدید پسینہ آنے لگا۔ عین اسی وقت انہیں ایک ٹی وی پروگرام یاد آیا جس میں ایک تجربہ کیا گیا تھا: کچھ لوگوں کو انتہائی سرد کمرے میں بٹھایا گیا تو وہ چند لمحوں میں ہی بے چین ہو گئے۔ پھر انہی لوگوں کو دوبارہ اسی کمرے میں یہ ہدایت دے کر بٹھایا گیا کہ آنکھیں بند کر کے تصور کریں کہ یہاں شدید گرمی ہے۔ حیرت انگیز طور پر وہ لوگ کافی دیر تک اس شدید سردی کو برداشت کرنے کے قابل ہو گئے۔
انہوں نے اسی تجربے کو خود پر آزمانے کا فیصلہ کیا۔ آنکھیں بند کر کے وہ یہ تصور کرنے لگے کہ یہاں شدید ٹھنڈ ہے اور یہ سردی ان کے پورے جسم میں پھیل رہی ہے۔ چند ہی منٹوں میں انہیں گرمی محسوس ہونا بند ہو گئی، پسینہ رک گیا، اور وہ سکون کے ساتھ بال کٹوا کر گھر واپس آ گئے۔
یہ واقعہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ انسانی ذہن میں اپنے ماحول اور اس سے پیدا ہونے والے احساسات و جذبات پر قابو پانے کی کتنی غیر معمولی صلاحیت موجود ہے۔ اس صلاحیت کو زندگی کے کئی میدانوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے، مگر اس کا سب سے بہترین استعمال جنت کے حصول کی جدوجہد میں ہے۔
جنت میں داخلے کی بنیادی شرط یہ ہے کہ انسان ہر طرح کی ترغیبات کے باوجود نیکی کے راستے پر قائم رہے۔ وہ اپنے تعصبات سے اوپر اٹھ کر صرف اس لیے حق کو قبول کرے کہ اسی میں قیامت کی نجات ہے۔ وہ مایوسی کے سمندر میں بھی اپنے ذہن میں مثبت سوچ کا جزیرہ آباد کرے۔ وہ دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کی غیر مرئی حقیقت کو اپنے اوپر غالب رکھے، اور مخلوق کے درمیان رہ کر اپنے خالق کو ذہن کی آنکھ سے دیکھنے لگے۔
یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب انسان کا ایمان قرآن مجید سے تشکیل پائے۔ قرآن وہ کتاب ہے جہاں خالق کا ذکر ہے، دنیا نہیں بلکہ آخرت کی اہمیت بیان کی گئی ہے، جہاں نیکی کے واضح معیار مقرر کر دیے گئے ہیں۔ جہاں پیغمبروں کی زندگیاں ہمیں منفی ماحول میں مثبت رہنا سکھاتی ہیں، اور جہاں تعصب کے اندھیروں سے نکل کر ہدایت کی روشنی میں آنے کی دعوت دی جاتی ہے۔
جو لوگ قرآن کو اس انداز میں اپنا لیتے ہیں، قرآن ان کے لیے مکمل رہنمائی بن جاتا ہے۔ ایسے لوگ نماز میں خشوع اختیار کرتے ہیں، اپنے مال کو آخرت کے لیے خرچ کرتے ہیں، اور مذہبی تعصبات، فرقہ وارانہ وابستگی اور انتہا پسندی سے اوپر اٹھ کر ہمیشہ سچائی کا ساتھ دیتے ہیں۔
یہی وہ لوگ ہیں جن کا ایمان پختہ اور عمل صالح ہوتا ہے۔ دنیا میں یہ سراپا خیر ہوتے ہیں، اور آخرت کا عظیم اجر بھی انہی کے لیے ہے۔

Add comment