
The Goddess of Life presents the five boons. Every choice carries a consequence. Only in balance is a complete life found.
زندگی کی دیوی پانچ نعمتیں پیش کرتی ہے۔ ہر انتخاب کا ایک نتیجہ ہوتا ہے۔ صرف توازن میں ہی مکمل زندگی ملتی ہے۔
صبح کا وقت تھا۔ ایک نوجوان راستے پر چلا جا رہا تھا۔ اچانک اس نے دیکھا کہ سامنے سے ایک بزرگ عورت آ رہی ہے۔ وہ بہت خوبصورت تھی، اس کے کپڑے چمک رہے تھے، اور اس کے ہاتھ میں پانچ چیزیں تھیں۔
نوجوان قریب آیا تو عورت نے مسکرا کر کہا: “بیٹا، میں زندگی کی دیوی ہوں۔ میرے پاس پانچ نعمتیں ہیں۔ تم ان میں سے ایک انتخاب کر سکتے ہو۔”
اس نے اپنے ہاتھ پھیلائے تو نوجوان نے دیکھا—ایک ہاتھ میں خوبصورتی تھی، دوسرے میں محبت، تیسرے میں شہرت، چوتھے میں دولت، پانچویں میں خوشی۔
نوجوان نے حیرت سے پوچھا: “صرف ایک؟”
دیوی بولی: “صرف ایک۔ اور سوچ سمجھ کر چننا، کیونکہ ہر نعمت کی اپنی قیمت ہے اور اپنا انجام۔”
نوجوان نے بہت دیر سوچا۔ خوبصورتی؟ اس کے ساتھ لوگ محبت کریں گے۔ محبت؟ یہ تو سب سے پیاری چیز ہے۔ شہرت؟ پوری دنیا اسے جانے گی۔ دولت؟ ساری خواہشیں پوری ہوں گی۔ خوشی؟ یہی تو سب چاہتے ہیں۔
آخر اس نے کہا: “مجھے دولت دو۔”
دیوی نے اسے سونے کا ایک سکہ دیا اور کہا: “یہ لے۔ دولت مل گئی۔ اب جا۔”
نوجوان بہت خوش تھا۔ اس نے سوچا کہ اب وہ سب کچھ خرید سکتا ہے۔ اس نے مہنگے کپڑے خریدے، بڑا گھر خریدا، نوکر رکھے، دوستوں کو دعوتیں دیں۔ لوگ اس کے پاس آتے، اس کی خاطر مدارت کرتے، اس کی تعریف کرتے۔
لیکن چند دنوں میں ہی اس نے دیکھا کہ یہ دوست تب تک اس کے پاس تھے جب تک وہ ان پر پیسے خرچ کرتا تھا۔ جب اس نے دینا بند کیا تو وہ غائب ہو گئے۔
اس کی بیوی اس سے پیار نہیں کرتی تھی، وہ اس کے پیسوں سے پیار کرتی تھی۔ اس کے بچے اس سے محبت نہیں کرتے تھے، وہ اس کے تحفوں سے محبت کرتے تھے۔
ایک دن وہ بیمار پڑ گیا۔ کوئی اس کے پاس نہیں آیا۔ دوست غائب تھے، بیوی گھوم رہی تھی، بچے کھیل رہے تھے۔ وہ اکیلا تھا۔
اس نے سوچا: “یہ دولت کس کام کی جب کوئی پیار کرنے والا نہیں؟”
وہ دیوی کے پاس گیا اور بولا: “مجھے دولت نہیں چاہیے۔ مجھے محبت دو۔”
دیوی نے سر جھٹک دیا۔ “تم نے انتخاب کر لیا تھا۔ اب واپس نہیں جا سکتے۔”
نوجوان اداس ہو گیا۔ اس نے اپنی ساری دولت لٹا دی اور تنہا رہنے لگا۔
دوسرا شخص آیا۔ وہ ایک نوجوان لڑکی تھی، بہت خوبصورت۔ اس نے دیوی سے کہا: “مجھے خوبصورتی دو۔”
دیوی نے اسے خوبصورتی دے دی۔ وہ لڑکی اتنی خوبصورت ہو گئی کہ لوگ دیکھتے رہ جاتے۔ شہر بھر میں اس کی تعریف ہونے لگی۔ بہت سے لڑکے اس پر فدا ہو گئے۔ اس کی شادی ایک امیر گھرانے میں ہو گئی۔
لیکن خوبصورتی کی قیمت بھی تھی۔ لوگ اس کے چہرے کو دیکھتے، اس کی روح کو نہیں۔ دوست اس کے حسن کے پیچھے بھاگتے، اس کی ذات کو نہیں۔
وہ بڑی ہوئی تو اس کی خوبصورتی ختم ہونے لگی۔ جھریاں آنے لگیں، رنگ ڈھلنے لگا۔ اور ساتھ ہی ساتھ اس کے دوست بھی ختم ہونے لگے۔ اس کا شوہر اسے چھوڑ گیا۔ اس کے بچے اسے دیکھنے نہ آتے۔
وہ بڑھاپے میں بالکل اکیلی تھی۔ اس کے پاس نہ دوست تھے، نہ پیار، نہ کوئی سہارا۔
وہ روتی اور کہتی: “کاش میں نے محبت مانگی ہوتی، یا خوشی، یا شہرت بھی مانگی ہوتی۔ خوبصورتی تو پانی کے بلبلے کی طرح ہے—آتی ہے اور چلی جاتی ہے۔”
تیسرا شخص آیا۔ وہ ایک جوان لڑکا تھا، خواب دیکھنے والا۔ اس نے دیوی سے کہا: “مجھے شہرت دو۔ میں دنیا کا مشہور ترین آدمی بننا چاہتا ہوں۔”
دیوی نے اسے شہرت دے دی۔ وہ لڑکا ایک فنکار تھا۔ اس کی پینٹنگز مشہور ہونے لگیں۔ لوگ دور دور سے اس کے کام دیکھنے آتے۔ اخباروں میں اس کے نام چھپتے۔ بادشاہ اسے محل میں بلاتے۔
لیکن شہرت نے اسے کہیں اور نہیں جانے دیا۔ وہ ہر وقت لوگوں کے درمیان رہتا، لیکن ہمیشہ اکیلا رہتا۔ لوگ اس کی شہرت سے محبت کرتے، اس سے نہیں۔ جب وہ بولتا تو لوگ سنتے، لیکن سن کر بھی نہ سنتے—وہ اس کی شہرت سنتے تھے، اس کی باتیں نہیں۔
ایک دن وہ بیمار پڑا تو اس کے پاس کوئی نہیں آیا۔ ڈاکٹر آیا تو اس نے بھی اپنے کارڈ پر دستخط لیے اور چلا گیا۔ وہ تنہا مرا، اپنی شہرت کے ساتھ۔
مرتے وقت اس نے کہا: “شہرت ایک آئینہ ہے—تم اسے دیکھتے ہو، وہ تمہیں دیکھتا ہے، لیکن چھو نہیں سکتے۔”
چوتھا شخص آیا۔ وہ ایک بوڑھا تھا، زندگی سے تھکا ہوا۔ اس نے کہا: “مجھے خوشی دو۔ میں نے ساری زندگی غم دیکھے، اب بس خوشی چاہیے۔”
دیوی نے اسے خوشی دے دی۔ وہ بوڑھا بہت خوش رہنے لگا۔ ہر وقت ہنستا، ہر چیز میں مزا لیتا۔ مشکل وقت میں بھی خوش، آسان وقت میں بھی خوش۔
لیکن ایک دن اس کی بیوی مر گئی۔ وہ پھر بھی خوش تھا۔ اس کا بیٹا مر گیا—وہ خوش تھا۔ اس کا گھر جل گیا—وہ خوش تھا۔ لوگوں نے کہا: “یہ پاگل ہو گیا ہے۔”
آخر وہ بھیک مانگنے لگا، لیکن پھر بھی خوش تھا۔ لوگ اسے دیکھ کر کہتے: “دیکھو اسے، کتنا خوش ہے، حالانکہ اس کے پاس کچھ نہیں۔”
ایک دن وہ سڑک پر ہی مر گیا۔ مرتے وقت بھی ہنس رہا تھا۔ پاس سے گزرنے والوں نے کہا: “دیکھو، یہ پاگل تھا۔ خوشی میں مر گیا۔”
لیکن اس کی خوشی میں کوئی گہرائی نہیں تھی، کوئی معنی نہیں تھے۔ وہ صرف خوشی تھی، اور کچھ نہیں۔
پانچواں شخص آیا۔ وہ ایک نوجوان لڑکی تھی، سادہ سی، معمولی سی۔ اس نے دیوی سے کہا: “مجھے محبت دو۔”
دیوی نے کہا: “محبت بہت خوبصورت ہے، لیکن اس کی قیمت بھی ہے۔”
لڑکی بولی: “کیا قیمت؟”
دیوی نے کہا: “محبت میں تم خود کو کھو دو گی۔ تم دوسروں کے لیے جیو گی، اپنے لیے نہیں۔ تم خوشی بھی لو گی اور غم بھی۔ محبت میں دونوں ہیں۔”
لڑکی نے کہا: “مجھے منظور ہے۔”
اسے محبت مل گئی۔ اس نے شادی کی، بچے پیدا کیے، ان کی پرورش کی۔ اس نے ساری زندگی دی، ساری خوشیاں دیں، سارے غم جھیلے۔
جب وہ بوڑھی ہوئی تو اس کے بچے جوان ہو گئے۔ وہ اسے چھوڑ کر چلے گئے۔ اس کا شوہر مر گیا۔ وہ اکیلی رہ گئی۔
لیکن جب وہ مرنے لگی تو اس کے بچے واپس آئے۔ انہوں نے اس کا ہاتھ تھاما۔ ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ انہوں نے کہا: “ماں، تم نے ہمارے لیے ساری زندگی دے دی۔ تم نے ہمیں محبت دی، اور ہم تمہیں کبھی نہیں بھولیں گے۔”
وہ مسکرائی اور بولی: “یہی تو محبت ہے۔ تم نے مجھے واپس دیا جو میں نے تمہیں دیا تھا۔”
مرتے وقت اس کے چہرے پر سکون تھا۔ اس کے پاس دولت نہیں تھی، خوبصورتی نہیں تھی، شہرت نہیں تھی، خوشی بھی نہیں تھی—لیکن اس کے پاس محبت تھی، اور وہی سب کچھ تھی۔
آخری شخص آیا۔ وہ کوئی نہیں تھا، میں تھا، تم تھے، ہم سب تھے۔ ہم دیوی کے سامنے کھڑے تھے اور سوچ رہے تھے کہ کیا چنیں۔
دیوی نے ہم سے پوچھا: “بتاؤ، تم کیا چنتے ہو؟”
ہم نے کہا: “دیوی، ہم نہیں جانتے۔ دولت میں تنہائی ہے، خوبصورتی میں عارضیت، شہرت میں سطحیت، خوشی میں گہرائی نہیں۔ اور محبت میں غم بھی ہے۔”
دیوی نے مسکرا کر کہا: “تم نے سمجھ لیا۔ زندگی کی پانچ نعمتیں ہیں، لیکن کوئی ایک کامل نہیں۔ اصل حکمت یہ ہے کہ تم ان سب کو توازن سے لو۔ دولت تھوڑی، خوبصورتی تھوڑی، شہرت تھوڑی، خوشی تھوڑی، اور محبت بہت ساری۔”
ہم نے پوچھا: “یہ کیسے ممکن ہے؟”
دیوی بولی: “یہ تمہارے ہاتھ میں ہے۔ زندگی تمہیں سب کچھ دیتی ہے، لیکن تھوڑا تھوڑا۔ تمہارا کام ہے کہ اسے سنبھالو، اسے پروان چڑھاؤ، اور اس میں توازن رکھو۔ دولت کو محبت سے جوڑو، خوبصورتی کو عقل سے، شہرت کو عاجزی سے، خوشی کو سکون سے۔ پھر دیکھو کہ یہ پانچوں نعمتیں مل کر ایک مکمل زندگی بناتی ہیں۔”
ہم سمجھ گئے۔ زندگی میں کوئی ایک چیز سب کچھ نہیں ہوتی۔ اصل بات ہے ان سب کو سنبھالنا، ان میں توازن رکھنا، اور سب سے بڑھ کر—محبت کو کبھی نہ کھونا۔
اخلاقی سبق: زندگی کی پانچ بڑی نعمتیں ہیں—دولت، خوبصورتی، شہرت، خوشی، محبت۔ ان میں سے کوئی ایک کامل نہیں۔ اصل کامیابی ان سب میں توازن پیدا کرنا ہے، اور محبت کو سب سے اوپر رکھنا ہے۔

Add comment