
ہم بہترین چیزیں “خاص لمحوں” کے لیے سنبھالتے رہتے ہیں، اور بھول جاتے ہیں کہ ہر سانس خود ایک خاص موقع ہے۔
الماریوں میں بند کپڑے اور برتن تو بچ جاتے ہیں، مگر وقت اور زندگی ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔
خوشیوں کو کل پر مت ٹالیں۔ جو برتن، جو کپڑے، جو مسکراہٹیں آج کے لیے ہیں، انہیں آج ہی استعمال کریں۔
ہم زندہ رہنے سے اتنا ڈرتے کیوں ہیں؟
نئے کپڑے سلوائے ہیں تو اُنہیں پہننے کےلئے کسی خاص دن کا انتظار کریں گے
نئی گاڑی خریدی مگر اسکی سِیٹ پر چڑھے لفافے نہیں اتاریں گے۔
نیا ڈنر سیٹ خریدا ہے مگر کھانا پرانے میں ہی کھاتے ہیں۔
پانچ ہزار والا نوٹ جیب میں ہے تو اسے کُھلا کروانے سے کتراتے ہیں کہ پھر فوری خرچ ہوجائے گا۔
گھر میں ڈیڑھ لٹر والی خالی بوتلوں کے انبار لگتے جارہے ہیں لیکن پھینکنے کا حوصلہ نہیں پڑ رہا۔
شاپنگ بیگز اکٹھے کرکرکے ایک بڑے شاپنگ بیگ میں ڈال کر رکھ چھوڑتے ہیں۔
نئی بیڈ شیٹ کیوں سوٹ کیس میں پڑی پڑی پرانی ہوجاتی ہے؟
جہیز میں ملی نئی رضائیاں کیوں بیس سال سے استعمال میں نہیں آئیں؟
باہر سے آیا ہوا لوشن کیوں پڑا پڑا ایکسپائر ہوگیا ہے؟
باتھ رو م میں نئی شیمپو بوتل موجود ہے تو پانچ پرانی کا انبار کیوں لگا رکھا ہے؟
کسی کے گھر سے کیک آجائے تو خود کھانے کی بجائے سوچنے لگتے ہیں کہ آگے کہاں دیا جاسکتا ہے۔
ہر وہ کیک جس پر لگی ٹیپ تھوڑی سی اکھڑی ہوئی ہو‘اس بات کا ثبوت ہے کہ اہل خانہ نے ڈبہ کھول کر چیک کیا ہے اور پھر اپنے تئیں کمال مہارت سے اسے دوبارہ پہلے والی حالت میں جوڑنے کی ناکام کوشش کی ہے۔
اور تو اور ہم بچے سے جوان ھو گئے مگر اپنے ناپ کے کپڑے اور جوتے نصیب نہ ھوئے ، جوتا احتیاطاً ایک دو نمبر بڑا لیا جاتا، لاکھ پہن کر رو کر بھی دکھایا کہ دیکھو اماں میری ایڑھی تو اس جوتے کی کمر تک جا رھی ھے مگر ایک ہی جواب کہ پاؤں بڑھ رھا ھے اگلے سال پورا ھو جائے گا اور قسم سے اگلا سال آیا بھی نہ ھوتا اور جوتا لیرو لیر ھو جاتا ، کپڑے ہمیشہ ایک بالشت بڑے رکھوانے ہیں تا کہ اگلے سال چھوٹے بھائی کو بھی پورے ھو جائیں۔
۔پتانہیں کیوں ہم میں سے اکثر کو ایسا کیوں لگتاہے کہ اچھی چیز ہمارے لیے نہیں ہوسکتی۔
دل چاہیے۔۔۔! نئی چیز استعمال کرنے کے لیے پہاڑ جتنا دل چاہیے۔ جو لوگ اس جھنجٹ سے نکل جاتے ہیں ان کی زندگیوں میں عجیب طرح کی طمانیت آجاتی ہے۔ یہ شرٹ خریدیں تو اگلے دن پورے اہتمام سے پہن لیتے ہیں۔
یہ ہر اوریجنل چیز کو اُس کی اوریجنل شکل میں استعمال کرتے ہیں اور ہم جیسے دیکھنے والوں کو لگتاہے جیسے یہ بہت امیر ہیں حالانکہ یہ سب چیزیں ہمارے پاس بھی ہوتی ہیں لیکن ہماری ازلی بزدلی ہمیں ا ن کے قریب بھی نہیں پھٹکنے دیتی۔
دن پہ دن گذرتے جاتے ہیں لیکن ہم نقل کی محبت میں اصل سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔
ہم ساری زندگی اچھے لباس کے میلا ہونے کے ڈر سے جیتے ہیں اور پھر ایک دن دودھ کی طرح اجلا لباس پہن کر مٹی میں اتر جاتے ہیں۔ اسلئےاپنی چیزوں کو وقت پر استعمال کریں کیونکہ سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں۔ کیا آپ بھی ایسا کرتے ہو. ؟

Add comment