
جب اندرونی خوشی اور فطری جذبے کو مادی فائدے سے جوڑ دیا جاتا ہے، تو اس کا اصل جوہر ختم ہو جاتا ہے۔ یہ اس بات کی ایک خوبصورت یاد دہانی ہے کہ زندگی کے ہر رشتے اور خوشی کی قیمت نہیں لگائی جا سکتی۔ 🌸
ایک گاؤں میں ایک بوڑھا آدمی رہتا تھا، تنہا… بالکل تنہا۔ نہ کوئی ہمسفر، نہ کوئی بات کرنے والا۔ اس کی خاموش زندگی کا ایک ہی شور تھا—گاؤں کے بچے، جو ہر شام اس کے گھر کے قریبکھیلنے آ جاتے تھے۔ان کے قہقہے، چیخ و پکار اور دوڑ دھوپ پورے ماحول کو گونجدار بنا دیتے۔ مگر یہ شور، جو بچوں کے لیے خوشی تھا، بوڑھے کے لیے اذیت بن چکا تھا۔ آخرکار ایک دن وہ تنگ آ گیا… لیکن اس نے غصہ کرنے کے بجائے ایک عجیب ترکیب سوچی۔اگلی شام اس نے بچوں کو اپنے پاس بلایا۔ بچے پہلے تو گھبرا گئے، مگر بوڑھے کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھ کر قریب آ گئے۔
“بیٹو!” بوڑھے نے نرمی سے کہا، “مجھے تمہاری آوازیں بہت اچھی لگتی ہیں… تمہاری ہنسی میرے دل کو خوش کر دیتی ہے۔ اگر تم روز یہاں کھیلنے آؤ، تو میں ہر ایک کو ایک ڈالر دوں گا۔”
بچوں کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ اگلے دن وہ پہلے سے بھی زیادہ شور مچاتے ہوئے آئے، اور دل کھول کر کھیلے۔ بوڑھے نے وعدے کے مطابق سب کو ایک ایک ڈالر دیا۔
دوسرے دن بھی یہی ہوا… مگر اس بار بوڑھے نے ہر بچے کو صرف پچاس سینٹ دیے۔
بچے تھوڑا حیران ہوئے، مگر پھر بھی کھیلتے رہے۔
تیسرے دن، جب وہ آئے تو بوڑھے نے انہیں صرف دس سینٹ دیے۔ بچوں کے چہروں پر مایوسی چھا گئی۔
بوڑھے نے افسردہ لہجے میں کہا:
“بیٹو… میرے پاس اب زیادہ پیسے نہیں رہے۔ کیا تم کل بھی آ کر صرف خوشی کے لیے کھیل سکتے ہو؟”
یہ سن کر بچوں کے چہرے بدل گئے۔ ان کی خوشی غصے میں بدل گئی۔
“صرف کھیلنے کے لیے؟ بغیر پیسوں کے؟” ایک بچے نے کہا۔
“ہم اتنی محنت کیوں کریں؟” دوسرے نے منہ بنا کر جواب دیا۔
اور پھر… وہ سب وہاں سے چلے گئے—ہمیشہ کے لیے۔
بوڑھا دروازے پر کھڑا، خاموشی سے انہیں جاتے ہوئے دیکھتا رہا… اور پھر ایک ہلکی سی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر آ گئی۔
اس کی چال کامیاب ہو چکی تھی۔

Add comment