ایک مولوی صاحب خوفِ خدا کے موضوع پر تقریر فرما رہے تھے۔ خوفِ خدا پر ان کی طویل تقریر سننے کے بعد مجمع میں موجود ایک سامع نے سوال کیا:
“مولانا صاحب! جانوروں میں سب سے کم چربی کس جانور میں ہوتی ہے؟”
مولوی صاحب کچھ لمحوں کے لیے دم بخود رہ گئے۔ اس سوال کا درست جواب ان کے پاس موجود نہ تھا، اس لیے انہوں نے اندازہ لگا کر کسی جانور کا نام لے دیا، جو کہ غلط نکلا۔
اس پر مولانا صاحب نے اسی شخص سے کہا:
“اچھا، اگر تمہیں اس کے بارے میں علم ہے تو تم ہی بتا دو۔”
وہ شخص بولا:
“جانوروں میں سب سے کم چربی ہرن میں پائی جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسے ہر وقت درندوں اور شکاری جانوروں کا خوف لاحق رہتا ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ پانی پینے کے لیے بھی جھکتا ہے تو بار بار گردن اٹھا کر اردگرد دیکھتا ہے کہ کہیں کوئی اسے شکار نہ بنا لے۔ اسی مسلسل خوف کی وجہ سے اس کے جسم میں چربی جمع نہیں ہو پاتی۔”
پھر اس شخص نے کہا:
“دوسری طرف آپ نے خوفِ خدا پر تو بہت زبردست تقریر کی ہے، مگر آپ کی اپنی گردن چربی کی وجہ سے مڑتی تک نہیں۔”
“اس لیے مجھے آپ کی سنائی ہوئی اس تقریر سے اتفاق نہیں ہے۔”

Add comment