
نیکی کا قرض کہانئ
شہر کی ایک سڑک کے کنارے، ایک بوڑھا آدمی اپنی چھوٹی سی دکان پر پرانے جوتے مرمت کیا کرتا تھا۔ اس کا نام بابا رحمت تھا۔ بابا رحمت بہت غریب تھا، لیکن ان کے چہرے پر ہمیشہ ایک پرسکون مسکراہٹ رہتی تھی۔
سردیوں کی ایک شام، جب برف باری شروع ہونے والی تھی، ایک چھوٹا لڑکا ان کی دکان کے سامنے آ کر رک گیا۔ اس کے پاؤں میں موجود جوتے پھٹ چکے تھے اور وہ ٹھنڈ سے کانپ رہا تھا۔ اس نے حسرت بھری نظروں سے دکان میں رکھے ہوئے نئے جوتوں کو دیکھا اور پھر خاموشی سے آگے بڑھنے لگا۔
بابا رحمت نے اسے آواز دی: “بیٹا! ذرا ادھر تو آؤ۔”
لڑکا ڈرتے ڈرتے قریب آیا۔ بابا نے اس کے پھٹے ہوئے جوتے دیکھے اور مسکرا کر کہا: “تمہارے جوتے تو پھٹ گئے ہیں، تمھیں نئیے جوتوں کی ضرورت ہے۔ لاؤ، میں انہیں ٹھیک کر دوں۔”
لڑکے نے ہچکچاتے ہوئے کہا: “بابا، میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔”
بابا رحمت نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا: “بیٹا، ہر چیز کی قیمت پیسے نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی صرف ایک مسکراہٹ ہی کافی ہوتی ہے۔”
انہوں نے لڑکے کو اپنے پاس بٹھایا، اسے گرم چائے پلائی اور اس دوران اپنے پاس موجود ایک جوڑی نئے اور مضبوط جوتے نکال کر اسے پہنا دیے۔ لڑکے کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آ گئے، وہ شکریہ ادا کر کے چلا گیا۔
برسوں بعد…
وقت گزرتا گیا، بابا رحمت بوڑھے اور بیمار ہو گئے۔ ان کے پاس علاج کے لیے پیسے نہیں تھے اور وہ ہسپتال کے ایک کونے میں پڑے اپنی زندگی کے آخری دن گن رہے تھے۔
ایک دن، ہسپتال کا سب سے بڑا ڈاکٹر ان کے وارڈ میں آیا۔ اس نے بابا رحمت کو دیکھا، کچھ دیر خاموش رہا، اور پھر ان کے علاج کا سارا خرچہ خود اٹھانے کا حکم دیا۔ بہترین علاج کی بدولت بابا رحمت صحت یاب ہو گیا۔
جب وہ بابا رحمت ہسپتال سے واپس اپنے گھر جانے لگ تو انہوں نے پریشانی سے پوچھا: “بیٹا، میرا دوائیوں کا خرچہ کتنا ہوا؟ میرے پاس تو دائیوں کے پیسے دینے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔”
ڈاکٹر نے مسکرا کر ایک کاغذ بابا کے ہاتھ میں تھمایا۔ اس پر لکھا تھا:
”بل کی ادائیگی برسوں پہلے ایک جوڑی جوتوں اور ایک پیالی چائے سے ہو چکی ہے۔”
بابا رحمت نے غور سے دیکھا تو یہ وہی لڑکا تھا جسے انہوں نے برسوں پہلے سردی میں جوتے دیے تھے۔ دونوں کی آنکھیں نم تھیں، کیونکہ نیکی کبھی ضائع نہیں ہوتی؛ وہ گھوم کر واپس ضرور آتی ہے۔
اس کہانئ سے ہم نے یہ سیکھا زندگی میں دوسروں کے کام آئیں، مشکل وقت میں وہ بھی کام آتے ہیں۔

Add comment