
ایک معافی… ایک پیغام… اور بند دروازے دوبارہ کھل سکتے ہیں۔”
“بہن بھای رزق کے دروازے”
کیا آپ نے کبھی اس بات پر واقعی غور کیا ہے؟
کہ اللہ تعالیٰ نے سگے رشتوں کو اتنی اہمیت کیوں دی ہے؟
کیوں قرآن اور حدیث میں بار بار “صلہ رحمی” یعنی رشتے جوڑنے کی تاکید کی گئی؟
کیوں ایسے لوگوں کے بارے میں سخت وعید آئی ہے جو رشتے توڑ دیتے ہیں؟
یہ بات سن کر واقعی دل کانپ جاتا ہے،
کہ کہیں ہم بھی ان لوگوں میں شامل نہ ہو جائیں
جو چھوٹی چھوٹی باتوں پر دل توڑ دیتے ہیں، رشتے چھوڑ دیتے ہیں اور انا کو محبت پر ترجیح دے دیتے ہیں۔
ہم کمزور لوگ ہیں، ہمیں باتیں لگ جاتی ہیں، ہم جلد ناراض ہو جاتے ہیں۔
اور بعض اوقات ایک جملہ، ایک رویہ، ایک غلط فہمی
ہمیں سالوں کی محبت سے دور کر دیتی ہے۔
مگر۔۔۔ شاید۔۔۔ ہم ایک بہت بڑی حقیقت بھول جاتے ہیں!
رشتے صرف جذبات نہیں ہوتے، یہ رزق کے دروازے ہوتے ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
جو چاہتا ہے کہ اس کا رزق کشادہ ہو اور عمر میں برکت ہو، وہ صلہ رحمی کرے۔
یعنی رشتے جوڑنا صرف اخلاق نہیں، یہ رزق کا راز ہے۔
جب دل جڑتے ہیں تو برکت آتی ہے،
جب معاف کیا جاتا ہے تو آسانیاں آتی ہیں،
جب انسان اپنی انا کو چھوڑ دیتا ہے تو اللہ اس کے لیے راستے کھول دیتا ہے۔
اور جب رشتے ٹوٹتے ہیں تو صرف تعلق نہیں ٹوٹتا
برکت بھی کم ہو جاتی ہے۔
اسی لیے ضروری ہے کہ ہم ہر نماز میں یہ دعا مانگیں:
یا اللہ!
ہمیں صبر عطا فرما، ہمیں برداشت سکھا دے!
ہمیں ایسا بنا دے جو جوڑنے والے ہوں، توڑنے والے نہیں
ہمیں وہ دل دے جو معاف کر سکے، جو خاموشی اختیار کر سکے، جو اپنے حق سے بڑھ کر تعلق کو اہم سمجھے۔
کیونکہ ہر بار حق جیتنا ضروری نہیں ہوتا، کبھی کبھی رشتہ بچانا زیادہ ضروری ہوتا ہے۔
محبت بانٹنے سے کم نہیں ہوتی، بلکہ بڑھتی ہے
اور یہی بڑھتی ہوئی محبت رزق میں بھی وسعت لے آتی ہے۔
تو آج ایک فیصلہ کریں کہ
ہم اپنی زندگی میں کم از کم ایک رشتہ ایسا ضرور جوڑیں گے جو ٹوٹنے کے قریب ہے۔
ایک پیغام۔۔۔ ایک دعا۔۔۔ ایک معافی۔۔۔
شاید یہی وہ قدم ہو جو ہمارے لیے بند دروازوں کو دوبارہ کھول دے۔ کیونکہ رشتے صرف دنیا کے نہیں ہوتے یہ آخرت تک ساتھ جاتے ہیں۔
کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم وقتی انا کی خاطر ہمیشہ کی برکت سے محروم ہو جائیں۔

Add comment