
If a king permits a minor injustice, his army will devastate the whole land.” — A timeless lesson on ethical governance from Gulistan-e-Saadi.
ایک بار شکار کے دوران نوشیرواں نے اپنے ایک نوکر کو نمک لینے نزدیک گاؤں روانہ کیا اور تاکید کی کہ پیسوں کے بغیر نمک لے کر نہ آئے ۔ اگر وہ پیسوں کے بغیر نمک لایا تو یہ رواج عام ہو جائے گا۔ نوشیرواں کے مشیروں نے کہا کہ نمک کی کچھ مقدار چاہئے اس کو بغیر پیسوں کے لانے میں کیا حرج ہے؟نوشیرواں نے کہا کہ ظلم کی بنیاد جب دنیا میں رکھی گئی وہ معمولی ہی تھا پھر جو بھی آتا گیا وہ اس میں اضافہ کرتا چلا گیا۔ اگر بادشاہ عوام کے باغ میں سے سیب کھائے گا تو اس کے نوکر اس باغ کو اجاڑ دیں گے۔ اگر بادشاہ پانچ انڈوں کے ظلم کو جائز جانے تو اس کے سپاہی ہزاروں مرغ سیخوں پرچڑھادیں گے۔
پس حکمران یاد رکھیں کہ اگر وہ معمولی نفع کے لئے عوام پر ظلم کریں گے تو ان کے خدام عوام پر ظلم کی انتہاء کر دیں گے۔ پھر یہ ہوگا کہ حکمرانوں کی اس لا پرواہی کا انجام عوام الناس کو ان کے خدام کے عذاب کی صورت میں بھگتنا پڑے گا۔

Add comment