کچھ لوگ بیچھو سے بھی بڑا ڈنگ مار کر بڑے سکون سے یہ کہہ دیتے ہیں کہ ان کا مقصد کسی کو زخمی کرنا نہیں تھا۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے الفاظ شکر میں لپٹے زہر کی طرح ہوتے ہیں؛ چکھنے میں میٹھے مگر اثر میں جان لیوا۔ وہ وار بھی کرتے ہیں اور ہاتھ بھی جھاڑ لیتے ہیں، ذمہ داری سے ایسے بھاگتے ہیں جیسے نیت کا دعویٰ زخم کا علاج ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ نیت کا سچ عمل کے انجام سے پرکھا جاتا ہے، محض دعووں سے نہیں۔ اگر کسی بات، کسی فیصلے یا کسی رویے نے سامنے والے کے دل میں درد چھوڑا ہے تو پھر نیت کا بہانہ ایک کمزور پردہ بن جاتا ہے۔ ایسے لوگ خود کو معصوم ثابت کرنے میں ماہر ہوتے ہیں، مگر دوسروں کے دلوں پر پڑے نشانات سے آنکھ چرا لیتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ الفاظ کے بعد معذرت کا ایک جملہ ہر زخم بھر دے گا، حالانکہ کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو خاموشی میں بھی چیختے رہتے ہیں۔ یہ رویہ تعلقات کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے، اعتماد کو دیمک کی طرح چاٹ جاتا ہے۔ سچ یہ ہے کہ جسے واقعی احساس ہوتا ہے وہ ڈنگ سے پہلے رک جاتا ہے، اور جسے نہیں ہوتا وہ ڈنگ مار کر بھی خود کو بے قصور سمجھتا ہے۔ انسان کی پہچان اسی جگہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے اثر کی ذمہ داری لیتا ہے یا نیت کے نام پر خود کو بری الذمہ قرار دے دیتا ہے۔

Add comment